نوگام،6اگست(آئی این ایس انڈیا): جموں و کشمیر کے سری نگر کے نوگام میں دہشت گردوں نے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا، جس میں سی آرپی ایف کا ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔اس واقعہ سے ارد گرد کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔سی آرپی ایف کے ڈی آئی جی سنجے کمار نے بتایا کہ حملے کے بعد سکیورٹی نے علاقے کو گھیر لیا ہے۔سنجے کمار نے بتایا کہ دہشت گردوں نے رات آٹھ بج کر 45منٹ پر نوگات میں پولیس کے ایک بنکر گاڑی پر حملہ کیا، جس کی وجہ سے سی آر پی ایف کی ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گیا، جسے علاج کے لئے فوج ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔فی الحال حملے میں زخمی کانسٹیبل خطرے سے باہر ہے۔انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کی وجہ سے نوگام کے باشندوں اور ارد گرد میں خوف کا ماحول ہو گیا اور مصروف شہر میں لوگ محفوظ جگہ پر جانے کے لیے بھاگنے لگے۔انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد پریمپورا-پتھا چوک بائی پاس سڑک پر کچھ دیر کے لئے ٹریفک بند کر دیا گیا۔بتایا جا رہا ہے کہ حملہ آوربائک میں سوار ہو کر آئے تھے۔اس سے پہلے جمعہ کی رات جموں و کشمیر کے امرگڑھ سوپور میں سیکورٹی فورسز اور لشکر دہشت گردوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس میں تین دہشت گردوں کو ڈھیر کر دیا گیا تھا۔سیکوریٹی فورسز کو دہشت گردوں کے کسی گھر میں گھات لگا کر چھپا ہونے کی اطلاع ملی تھی۔دہشت گردوں سے تین اے کے 47برآمد ہوئے ہیں۔اس میں اے کا لیٹیسٹ ورژن اے 74بھی ملا ہے۔ہلاک تین دہشت گردوں کی شناخت جود احمد ڈار اور عبید حامد میر کے طور پر ہوئی ہے۔وہیں، تیسرے دہشت گرد کی ابھی شناخت نہیں ہوئی۔سکیورٹی نے دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے کو کہا تھا، پر وہ نہیں مانے اور انہوں نے آگ لگا دی تھی۔اس کی وجہ سے سیکورٹی فورسز نے بھی جواب کارروائی کی تھی۔